Skip to content Skip to footer

سوشل میڈیا اور خود اعتمادی کا چیلنج: کیا آپ اعتماد کھو رہے ہیں؟


کبھی سوچا ہے کہ اک سکرول کرتے ہوئے آپ کی انگلیاں کتنا کچھ چُرا لے جاتی ہیں؟ جیسے ہی فون اٹھاتے ہیں، کسی کے شاندار کیرئیر کا اعلان، کسی کی بے عیب باڈی شیپ، کسی کا پرتعیش گھر، اور کسی کی مسکراہٹ جس میں زندگی کے تمام راز چھپے ہوں… اور آپ؟ آپ کے ہاتھ میں چائے کا کپ اور دل میں اُس سوال کا دھواں: کیا میں واقعی اِتنا کم ہوں؟ 
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جیسے سوشل میڈیا آپ کو ایک نمائشی کھڑکی بنا دیتا ہے جہاں آپ دوسروں کی چمکتی تصویروں کے آگے اپنے آپ کو پرکھتے ہیں؟
کیا آپ بھی اُس دوپہر کو یاد کرتے ہیں جب آپ نے کسی کی پرفیکٹ لائف دیکھ کر اپنے کمرے کے شیلف پر پڑی کتاب کو نظرانداز کر دیا تھا؟
اور کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ کسی کی سٹیٹس پر لائک کرتے ہیں تو درحقیقت اپنے اندر کے کسی ٹکڑے کو ڈس لائک کر رہے ہوتے ہیں؟ 

ہم سب ایک ہی دریا میں ڈوب رہے ہیں

سوشل میڈیا نے ہمیں جوڑا ضرور ہے، مگر یہ رشتے اکثر وائرل ہوتے ہیں، ورچوئل نہیں۔ ہماری خود اعتمادی اب لائک کے بیچ پنپتی ہے، کمنٹس کے ریاضی میں گُم ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جہاں گھر کی چار دیواری میں بھی پڑوسی کی نظر سے ڈر لگتا ہے، وہاں سوشل میڈیا نے ہمیں ایک نئے کھلے میدان میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے، پر آپ کو دیکھنے والا کوئی نہیں۔ 

فیلٹر لائف کا کھیل: جھوٹی کہانیاں، اصلی احساسات 

ذرا اپنے کزن کی شادی کی تصویریں یاد کریں۔ جوڑے کے چہرے پر چمک، مہمانوں کا ہنسی کا شور، اور کیک کا وہ پرفیکٹ کٹ… مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس تصویر کے باہر کزن نے شادی سے پہلے روتے ہوئے کہا تھا: امی نے کہا تھا لوگ کیا کہیں گے، اس لیے یہ شادی ہونی ہی تھی؟ سوشل میڈیا ہمیں صرف ہائی لائٹس دکھاتا ہے، درد کو ڈیلیٹ کر دیتا ہے۔ 

لائک کی بھوک اور خود کی بھوک

آپ کے دوست نے مالدیپ کی تصویر شیئر کی؟ آپ کے پاس تو چھٹی بھی نہیں ملی! مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس دوست نے وہ ٹرپ اپنے والدین کے ساتھ لڑائی کے بعد بُک کروایا تھا؟ ہم دوسروں کی فلٹر لگائی زندگیوں کو اپنی بے فلٹر حقیقت سے کیوں compare کرتے ہیں؟ یاد رکھیں، سوشل میڈیا پر کوئی بھی اپنی زندگی کا ڈلیٹ شدہ سین شیئر نہیں کرتا۔

نمبر گیم: 500 دوست، مگر 5 آنسو بہانے والے؟ 

آپ کے پاس 1K فالوورز ہیں؟ مگر جب رات کو نیند اُڑ جائے تو کون سا نام ذہن میں آتا ہے؟ پاکستانی معاشرے میں جہاں لوگ کیا کہیں گے کی نفسیات گہری ہے، وہاں سوشل میڈیا نے اِسے نیا روپ دے دیا ہے۔ اب لوگ صرف محلے تک نہیں، پوری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جتنے زیادہ فالوورز، اُتنی ہی زیادہ تنہائی۔ 

کیا راستہ ہے؟

کچھ دیر کے لیے مُٹھی بھر آسمان کو ٹٹول کر دیکھیں۔ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکیں، اُس پڑوسی کے ساتھ چائے پی لیں جسے آپ سالوں سے جانتے ہیں، اپنی بہن کو وہ بات کہہ دیں جو آپ نے کمنٹس میں لکھنے سے پہلے ڈیلیٹ کر دی تھی۔ یاد رکھیں، خود اعتمادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں سے بہتر ہیں، بلکہ یہ کہ آپ کل کے خود سے آج کے خود کو بہتر سمجھیں۔

اپنی سٹوری خود لکھیں

سوشل میڈیا کو ٹول بنائیں، ماسٹر نہیں۔ جب بھی کسی کی چمکتی ہوئی تصویر دل پر بوجھ بنے، یاد دلائیں کہ یہ صرف ایک اسٹوری ہے، اصل زندگی تو وہ ہے جو اس فون کے باہر آپ جی رہے ہیں۔ اور ہاں، اگلی بار جب آپ خود کو کسی کے ہائی لائٹس کے آگے کم محسوس کریں تو اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا میری زندگی کا ٹریلر دیکھ کر کوئی میری فلم کو بھی حسد کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہا ہوگا؟ 
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کی سکرین کے پیچھے ایک کہانی ہے… جو کبھی پوسٹ نہیں ہوتی۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.