Skip to content Skip to footer

شادی کے لیے سماجی دباؤ: کیا ہماری خوشیاں دوسروں کی خواہشات کی قربانی بن چکی ہیں؟



کیا آپ نے کبھی گھر کی چار دیواری میں بیٹھے ہوئے یہ سوچا ہے کہ میں ابھی تیار نہیں ہوں لیکن آپ کے لیے شادی کی تاریخ طے کر دی گئی ہو؟
کیا آپ کو وہ لمحے یاد ہیں جب عید کی دعوت میں چائے کا کپ ہاتھ میں تھا، اور رشتے داروں کی نظریں آپ کے ہونٹوں پر تھیں، یہ جاننے کے لیے کہ تمہاری کوئی بات چل رہی ہے؟
کیا آپ نے کبھی اپنے خوابوں کو کسی دوسرے کے اُس سوال کے سامنے چھوٹا محسوس کیا ہے جو ہر ملاقات پر دہرایا جاتا ہے: بیٹا، اب تمہاری باری کب آئے گی؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سوال صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسا پہیہ ہے جو آپ کو اُس راستے پر دھکیل دیتا ہے جس پر چلنے کے لیے آپ کا دل تیار نہیں؟ 

یہ صرف شادی کا معاملہ نہیں…

پاکستانی معاشرے میں شادی کو اکثر زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ دباؤ کسی فرد کی انا، خواہشات، یا نفسیاتی صحت کو کیسے کچل دیتا ہے؟ جب گھر والے کہتے ہیں لوگ کیا کہیں گے؟ تو دراصل وہ لوگ کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو شادی کے بعد طلاق پر بھی تبصرے کرتے ہیں، اولاد نہ ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، اور کامیاب رشتے پر بھی انگلیاں اُٹھاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں خوشی کی تعریف دوسروں کے معیارات سے طے ہوتی ہے۔ 

حقیقی زندگی کے وہ منظر نامے جو آپ کو جکڑ لیتے ہیں

بیٹی کی عمر ہو رہی ہے 28… اب تو کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں ملے گا۔ 
ماں کی یہ فکر صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا زہر ہے جو بیٹی کے ذہن میں یہ بات بٹھا دیتا ہے کہ وہ پھیکے پھول کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹی میں مل جائے گا۔ 

تمہارا چھوٹا بھائی تو شادی شدہ ہے، تم اب تک کیوں؟ 

یہ سوال اُس نوجوان لڑکے کے لیے تلخ حقیقت بن جاتا ہے جو نوکری کے لیے جدوجہد کر رہا ہوتا ہے، لیکن اُس کے قابلِ شادی ہونے کا معیار اُس کی تنخواہ کے عدد ہوتے ہیں۔ 

ہم نے تو تمہاری خوشی کے لیے یہ رشتہ مان لیا۔ 

یہ جملہ اُس لڑکی کے کانوں میں پڑتا ہے جو اپنے خوابوں اور محبت کو ایک اجنبی کے سامنے قربان کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ 

وہ نفسیاتی اثرات جو ہم نظرانداز کر دیتے ہیں:

میں کبھی کسی کے لیے کافی نہیں ہوں گی

سماجی دباؤ اکثر خود اعتمادی کو اس حد تک کھوکھلا کر دیتا ہے کہ فرد اپنی ذات پر شک کرنے لگتا ہے۔ 

کیا میں صرف شادی کے لیے پیدا ہوا ہوں؟ 

یہ سوال اُس ڈپریشن کا دروازہ کھول دیتا ہے جہاں زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے۔ 

اب تو بس اللہ ہی مدد کرے۔

جبری شادیوں کے بعد کے تعلقات اکثر خاموشی اور مایوسی کی داستان بن جاتے ہیں۔ 

پاکستان میں 35% نوجوانوں کا ماننا ہے کہ شادی کا دباؤ اُن کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ رشتہ ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ جذباتی تیاری کی کمی ہوتی ہے، نہ کہ مالی مسائل؟ 

میں نے اُسے شادی کے بعد جانا… اب تو بس وقت گزار رہے ہیں۔ یہ جملہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔

کیا ہم اپنی خوشی کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں؟ 

سچ تو یہ ہے کہ سماجی دباؤ ایک ایسا جال ہے جسے توڑنے کے لیے آپ کو اپنے اندر کی آواز سننی ہوگی۔ اگلی بار جب کوئی کہے تمہاری عمر نکل رہی ہے، تو جواب دیجیے: میری عمر تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ یاد رکھیں، خوشی کا کوئی شیڈول نہیں ہوتا۔ شادی ایک خوبصورت رشتہ ہے، لیکن جب یہ دباؤ بن جائے تو یہ زنجیر بن جاتی ہے۔ اپنے دل کی سنیں—زندگی آپ کی ہے، لوگ تو راستے میں ملنے والے مسافر ہیں۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.