
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ وہ لڑکی جو کالج کی بینچ پر آپ کے ساتھ بیٹھتی ہے، اُس کی چمکتی ہوئی ایپل واچ اور ڈیزائنر بَیگ کے پیچھے کیا کوئی راتوں کی بے چینی چھپی ہو سکتی ہے؟
کیا واقعی شوگر ڈیڈی کا انتخاب صرف لالچ ہے، یا پھر ماں کے ہسپتال کے بل، بہن کی شادی، یا خود کو عزت دار گھرانے کی بیٹی ثابت کرنے کا دباؤ بھی ہے؟
اور وہ نوجوان لڑکا جو سوشل میڈیا پر لگژری کاروں اور ڈائنرز کی تصاویر شیئر کرتا ہے، کیا اُس کی زندگی بھی اُتنی ہی شینی ہے جتنی وہ دکھاتا ہے، یا پھر یہ سب دکھاوے کے پیچھے کوئی اور کہانی چل رہی ہے؟
یہ سوال صرف اچھے یا بُرے کے گرد نہیں گھومتے۔ یہ ہمارے اُس معاشرے کی عکاسی ہیں جہاں مہنگائی کے بوجھ تلے نوجوانوں کے خواب دبے جا رہے ہیں، جہاں لوگ کیا کہیں گے کا خوف زندگیوں کو کنٹرول کرتا ہے، اور جہاں سوشل میڈیا نے دکھاوے کی دوڑ کو اِتنا تیز کر دیا ہے کہ کچھ لوگ اپنی حقیقت ہی بھول گئے ہیں۔
معاشی مجبوریاں: میں نے تو صرف اپنے گھر والوں کو بچانا تھا
لاہور کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کی طالبہ ثناء کہتی ہے، جب ابو کا انتقال ہوا تو ماہانہ 25 ہزار فیس، گھر کا کرایہ، اور ماں کی دوائیوں کا بوجھ مجھ پر آ گیا۔ ایک دن کلاس فیلو نے کہا، ‘تمہاری خوبصورتی تمہاری سب سے بڑی دولت ہے۔ اُس دن میں نے فیصلہ کر لیا. ثناء جیسے کتنے ہی چہرے ہیں جو ہمیں روز مراہکہ ملتے ہیں جن کی آنکھوں میں شرمندگی نہیں، بلکہ ایک عجیب میں نے کوئی چارہ نہیں تھا والی بے بسی چھپی ہوتی ہے۔
لائف سٹائل کا انتخاب میں غریب گھر میں پیدا ہوئی ہوں، مگر غریب مرنے کو تیار نہیں!
کراچی کی زینب نے اپنے انسٹاگرام پر ڈیزرٹ سافاری کی تصویر شیئر کی تو کیپشن تھا
Life is short, buy the shoes!
مگر کسی کو نہیں پتا کہ یہ شوز اُس نے اپنے 50 سالہ پروٹیکٹر کے ساتھ 3 راتوں کی ڈیٹنگ کے بعد خریدے ہیں۔ زینب جیسے لوگوں کے لیے یہ کوئی مجبوری نہیں، بلکہ ایک حق ہے اگر میری جوانی کسی کی دولت کو انجوائے کر سکتی ہے، تو میں اپنی جوانی سے پیسہ کیوں نہ لوں؟
پاکستانی معاشرہ تمہاری عزت تمہارے بٹوے میں ہے
ہمارے ہاں شوگر ڈیڈی کو تو کوئی نہیں پوچھتا، مگر لڑکی کو ہر پارٹی میں فری کی ٹافیاں کہہ کر نوچا جاتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہی معاشرہ جب کسی لڑکے کو سیلف میڈ کہتا ہے، تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اُس کی گاڑی کا ایڈوانس کس آنٹی کے بینک اکاؤنٹ سے آیا تھا۔
ہم سب کسی نہ کسی کے شوگر بے بی ہیں!
سوچیں! کیا آپ نے کبھی اپنے باس کو خوش کرنے کے لیے اپنی مرضی کی قربانی نہیں دی؟ کیا آپ نے ٹرینڈز کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنی پسند کے کپڑے نہیں چھوڑے؟ ہم سب کسی نہ کسی طرح اپنی آزادی بیچ رہے فرق صرف اِتنا ہے کہ کسی کی قیمت روپے میں لگتی ہے، اور کسی کی لوگوں کی نظروں میں
تو پھر کون ہے جو فیصلہ کرے کہ مجبوری کہاں ختم ہوتی ہے اور انتخاب کہاں شروع ہوتا ہے؟ شاید جواب ہم سب کے اپنے آئینوں میں چھپا ہے۔