Skip to content Skip to footer

پروفیشنل تھیراپسٹ سے آپ کو کیا ملتا ہے؟



کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی بات آتی ہے تو ہم اپنے قریبی دوستوں کو تو گھنٹوں سناتے ہیں، مگر ایک پیشہ ور تھیراپسٹ سے بات کرنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ کیا یہ ڈر کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہمیں خاموش کر دیتا ہے؟ یا پھر یہ خیال کہ میں خود ہی سب سنبھال لوں گا ہماری نفسیات کا حصہ بن چکا ہے؟ کیا آپ نے محسوس کیا ہے کہ جب آپ کالج میں فیل ہو جاتے ہیں، نوکری چھوٹ جاتی ہے، یا رشتے ٹوٹتے ہیں تو آپ کی آنکھیں کیوں تھیراپسٹ کی بجائے فون کی اسکرین پر ٹک جاتی ہیں؟
کیا یہ سچ نہیں کہ ہم دماغی بیمار کہلانے کے ڈر سے اپنے جذبات کو موبائل گیمز، ڈراموں، یا کھانے میں دفن کر دیتے ہیں؟ 

ہماری ہچکچاہٹ کی جڑیں معاشرے کے ان گہرے بیج ہیں جو ہمیں یہ سکھاتے ہیں: غم بانٹو گے تو بڑھیں گے، خوشیاں بانٹو گے تو گھٹیں گی۔ مگر یہی وہ جملہ ہے جو ہمیں تھیراپسٹ کے دروازے تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔ 

وہ پل جب ہم خود کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں

ہمارے معاشرے میں جذبات کا اظہار اکثر بے صبری سمجھا جاتا ہے۔ مثال دے کر سمجھیں: علی نے جاب چھوڑ دی، ماں باپ کی توقعات، بہن کی شادی کا دباؤ… وہ روز رات کو سونے سے پہلے کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے، دل چاہتا ہے کسی سے کہے، مگر خیال آتا ہے: تھیراپسٹ کو پیسے دے کر اپنی بے بسی کی کہانی سناؤں؟ یہ تو میری خودداری کے خلاف ہے! یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو کمزور ٹھہرا لیتے ہیں، حالانکہ دراصل یہ ہمت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ 

لوگ جنہیں ہم نے اپنے دل پر سوار کر رکھا ہے

ہماری ہر سانس پر لوگ کی نظر کا خوف سوار رہتا ہے۔ تصویر بنائیں: زینب کو پینک اٹیکس آتے ہیں، مگر وہ کلینک جانے کی بجائے روحانی علاج پر یقین رکھتی ہے، کیونکہ اس کی ساس کہتی ہیں: ڈاکٹر کے پاس جانے والے پاگل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زینب کا دل دھڑکنا بند کرنے لگتا ہے، تو وہ اپنے آپ سے پوچھتی ہے: کیا واقعی میری روح میں جنات ہیں، یا یہ میرا دماغ ہے جو مجھے ڈرا رہا ہے؟

وہ جملے جو ہماری زبان پر نہیں، مگر دل میں زخم بن جاتے ہیں:

تمہارے پاس تو سب کچھ ہے، پھر ڈپریشن کس بات کا؟
ہماری تو نہیں ہوئی، تمہاری کیوں ہوگی؟

یہ وہ فقرے ہیں جو ہمیں خاموش کر دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب آپ کا دوست امتحان میں فیل ہو کر ہنس رہا ہو، تو شاید وہ اندر سے روتا ہو۔ جب آپ کی بہن شادی کے بعد مسلسل بیمار رہنے لگے، تو شاید وہ کہنا چاہتی ہو: “میں خوش نہیں ہوں۔

کیسے توڑیں یہ زنجیر؟

پہلا قدم: یہ تسلیم کرنا کہ میں ایک انسان ہوں، مشین نہیں۔ جیسے آپ بخار میں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، ویسے ہی ٹوٹے ہوئے دل کو بھی مرہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرا قدم: اپنے آس پاس نظر دوڑائیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی آفس کی وہ خاموش لڑکی جسے آپ انٹروورٹ سمجھتے ہیں، شاید وہ ہفتے میں ایک بار تھیراپسٹ سے ملتی ہے اور آپ سے زیادہ مطمئن ہے؟ 

اگر آپ کا موبائل ہینگ ہو جائے تو آپ ری سٹارٹ کرتے ہیں، تو پھر جو دماغ آپ کی زندگی چلا رہا ہے، اسے کیوں نظرانداز کرتے ہیں؟ یاد رکھیں: تھیراپی کوئی جادو کی چھڑی نہیں، مگر یہ وہ آئینہ ضرور ہے جو آپ کو خود سے متعارف کرواتا ہے۔ اور ہاں، یہ راز رہے یا نہ رہے، مگر پاکستان میں اب وہ دن دور نہیں جب تھیراپسٹ کے کلینک کا ویڈیو کال زوم میٹنگز کی طرح نارمل ہو جائے گا۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.