
کبھی سوچا ہے کہ جب آپ کسی دوست کی شادی میں جانے کے لیے دن رات پڑھائی کرتے ہیں، تو وہ اگلے دن کلاس میں اونگھتے ہوئے کیوں پکڑے جاتے ہیں؟
کیا آپ نے محسوس کیا ہے کہ جب آپ صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا پر گزارنے بیٹھتے ہیں، تو وہ گھنٹہ کسی جادوئی گھڑی کی طرح رات کے 2 بجے تک پہنچ جاتا ہے؟
کیا وہ لمحے جب آپ ماں سے یہ کہہ کر کمرے میں بند ہوتے ہیں کہ ابھی پڑھائی کرنا ہے، اصل میں گھر والوں سے بات چیت سے بچنے کا بہانہ بن جاتے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سوچا ہے کہ ہم سب ایک ہی کشمکش میں کیوں پھنسے ہیں؟
ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں
پاکستانی معاشرے کا ہر طالبعلم، چاہے وہ کراچی کا ہو یا پشاور کا، ایک ہی جنگ لڑ رہا ہے۔ پڑھائی کے بوجھ تلے دبے بغیر زندگی جینے کا حق۔ ہم سب جانتے ہیں کہ گھر والوں کی فرمائشیں بیٹا، پہلے پڑھائی پورا کرو!، ایک کپ چائے پینے چلتے ہیں اور ہماری اپنی خواہشات کے درمیان کھینچا تانی کیسے ہمیں ایک ٹائم مینیجمنٹ کے نام نہاد ماہر بنا دیتی ہے جو درحقیقت ہر روز ٹو-ڈو لسٹ کو آگے بڑھاتا رہتا ہے۔
حقیقت کی کھڑکی سے جھانکیں
وقت کبھی کم نہیں ہوتا، ہماری ترجیحات الجھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب آپ کا فائنل ایگزام ہو اور اسی دن بہن کی شادی کی رسموں میں جانا ہو، تو آپ اچانک ٹائم مینیجمنٹ کے جادوگر بن جاتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ نے ضرورت کو خواہش پر ترجیح دے دی۔ زندگی کا راز یہی ہے کہ جب ہم کسی چیز کو واقعی چاہتے ہیں، تو وقت خود بخود نکل آتا ہے۔
سماجی زندگی صرف پارٹیاں نہیں، یہ آپ کی ذہنی صحت کا سہارا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کا وہ طالبعلم جو ہفتے میں ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھ بحیرہ عرب کے کنارے چائے پیتا ہے، وہ صرف تفریح نہیں کر رہا، وہ اپنے دماغ کو ری چارج کر رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ جب آپ 8 گھنٹے پڑھنے کے بعد 20 منٹ کی گفتگو کرتے ہیں، تو یہ آپ کی پروڈکٹیوٹی کو 50 فیصد بڑھا دیتا ہے۔
پاکستان میں نا کہنا ایک آرٹ ہے۔
جب کالج کے دوست آپ کو فلم دیکھنے پر مجبور کر رہے ہوں اور آپ کو کل ایک پراجیکٹ جمع کرنا ہو، تو جی ہاں، ضرور چلیں گے کہنے کے بجائے ایک جملہ سیکھ لیں کہ آج تو نہیں پارٹنر، پر کل ضرور چائے میرے حساب سے!یہ جملہ آپ کو 90 فیصد مشکلات سے بچا سکتا ہے۔
ہر چیز کا ‘ٹائم بلاک’ بنائیں، پر لچکدار رہیں۔
لاہور کی ایک طالبہ نے مجھے بتایا کہ میں نے پڑھائی کے لیے 7 بجے سے 8 گھنٹوں تک کا ٹائم بلاک کیا تھا، مگر اسی دوران خالہ جی نے گھر آنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب میں 8 سے 10 گھنٹے تک پڑھتی ہوں، اور خالہ جی کو یقین دلایا کہ میں ان کی سویاں کھانے کے لیے ہمیشہ فارغ ہوں۔
یہ جنگ نہیں، ایک توازن ہے
پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کامیابی کو صرف گریڈز سے جوڑتے ہیں، جبکہ حقیقی کامیابی وہ ہے جب آپ اپنے کزن کی شادی میں ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہوئے بھی یہ سوچ سکیں: کل کا پراجیکٹ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ وقت کا انتظام کوئی روبوٹ بننے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ترجیحات کو اتنا واضح کرنا ہے کہ آپ پڑھائی کے دوران بھی دل لگا سکیں اور دوستوں کے ساتھ ہنستے ہوئے بھی یہ نہ سوچیں کہ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔
تو پھر آج سے ہی ایک کام کریں۔ اپنے موبائل پر سٹڈی ٹائمر لگائیں، اور جب وہ الارم بجے، تو کہیں: اب بس! 15 منٹ کی چائے بریک اور پھر دوبارہ واپس آ جاؤں گا۔ کیونکہ زندگی کوئی امتحان نہیں کہ جس میں صرف ایک ہی سوال کا جواب درکار ہو۔۔