Skip to content Skip to footer

کیا آپ کے اندر کا ‘وہ’ شخص بھی تھک چکا ہے؟ تھیراپی اور کاؤنسلنگ ہماری زندگیوں میں کیوں ضروری ہے؟



ذرا آنکھیں بند کریں اور سوچیں: 
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کے دل کا بوجھ اتنا بھاری ہو گیا ہے کہ راتوں کو نیند اُڑ جاتی ہے، مگر کسی سے کہنے میں شرم محسوس ہوتی ہے؟ 
کیا آپ وہ والدہ ہیں جو بچوں کی پڑھائی، گھر کے جھگڑے، اور خاوند کی خاموش ناراضی کے درمیان خود کو کھوتی جا رہی ہیں، مگر مثالی بیوی بننے کے لیے مسکرا کر سب کچھ سہہ لیتی ہیں؟ 
کیا آپ وہ نوجوان ہیں جو ڈگری، نوکری، اور شادی کے دباؤ میں اِتنے دب گئے ہیں کہ خود کو ایک مشین سمجھنے لگے ہیں؟ 
اور کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ سب کہانیاں صرف آپ کی ہیں، یا پھر ہم سب کے اندر کوئی نہ کوئی زخم چھپا ہے جو ہنسنے کے باوجود بھرتا نہیں؟ 

ہم سب کے اندر ایک غیرمرئی جنگ جاری ہے۔ جذبات کی یہ لڑائی ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے، مگر ہماری پاکستانی روایات میں دماغی صحت کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ہمارے ٹوٹے ہوئے پاؤں کو ملتی ہے۔ 

لوگ کیا کہیں گے؟ ایک قومی المیہ 

سوچیے وہ منظر، رات کے کھانے پر بیٹھے ہوئے آپ نے کہا، میں تھوڑا تھکا ہوا محسوس کر رہا ہوں، شاید کسی کاؤنسلر سے بات کروں۔اچانک خاموشی چھا گئی۔ پھر چچا جان نے کہا، ارے یہ سب مغربی بیماریاں ہیں! نماز پڑھو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر کیا نماز اور تھیراپی ایک دوسرے کی دشمن ہیں؟ نہیں! دونوں تو روح کو سکون دینے کے مختلف راستے ہیں۔ 

حیرت انگیز حقیقت

ہمارے ہاں 75% لوگ ڈپریشن کو ویسے ہی کچھ دماغی خرابی سمجھتے ہیں، جبکہ یہ اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کہ دل کا دورہ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر سر درد، بے خوابی، یا چڑچڑاپن دراصل اندرونی کرب کے اشارے ہوتے ہیں؟ 

میں نے تو اپنے آپ کو سنبھال لیا!  کیا واقعی؟ 

شازیہ خاتون کی کہانی سنیے۔ وہ ہر جمعرات کو سر درد کا بہانہ بنا کر کاؤنسلر کے پاس جاتی تھیں۔ ایک دن اُن کی بیٹی نے کہا، امی، آپ کو تو اب ہر ہفتے سر درد ہوتا ہے! شازیہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، بیٹا، یہ سر درد نہیں… یہ میری خوشی کا دن ہے۔ دراصل، کاؤنسلر کے کمرے میں بیٹھ کر وہ پہلی بار اپنے لیے زندہ ہوتی تھیں۔ 

تھیراپی کیا ہے؟

یہ نہ کوئی انگریزی ٹونک ہے، نہ گوری میم کی بات۔ یہ تو وہ محفوظ جگہ ہے جہاں
آپ اپنے والد کی ناراضگی پر رو سکتے ہیں بغیر نافرمان بیٹا کہلائے۔ 
آپ شادی نہ کرنے کے فیصلے کو بغیر ضدی لیبل کے سمجھا سکتے ہیں۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں خوش نہیں ہوں، اور کوئی آپ کو بیمار نہیں کہے گا۔ 

ایک مثال جو سب کو چبھے گی

جس طرح ہم موبائل فون کو روز چارج کرتے ہیں، ویسے ہی دل و دماغ کو بھی ریفریش ہونے دیں۔ کیا آپ کا فون تو 1% پر بھی چلتا ہے، مگر آپ خود ڈیڈ لیول پر کام کر رہے ہیں؟ 

یہ جنگ ہارنے کے لیے نہیں جیتی کے لیے ہے

تھیراپی کو آزمائیے۔ اگر ڈاکٹر کے پاس جانے میں شرم نہیں، تو دماغ کی بات سننے میں کیوں؟ یاد رکھیے
آپ کا زخم چھپانے سے نہیں، سنبھالنے سے بھرتا ہے۔
اور ہاں… اگلی بار جب کوئی کہے تم پاگل ہو گئے ہو؟ تو مسکراتے ہوئے جواب دیں: 
جی ہاں! اب میں اپنی پاگلپن کو سمجھنے لگا ہوں۔ کیونکہ زندگی کو جینے کا یہی تو اصل حسن ہے، خود کو پہچاننے کی ہمت کرنا۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.