
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی قیمت کا حساب کتاب کون کر رہا ہے؟
کیا وہ لمحے یاد ہیں جب آپ نے چائے کی میز پر بیٹھے ہوئے خالو جان کو کہتے سنا: بیٹی کو پڑھا لکھا ہونا چاہیے، لیکن اتنا بھی نہیں کہ شوہر کو منہ دکھانے میں شرم آئے؟ یا پھر وہ دن جب آپ کی کزن نے شادی کے بعد کہا: اب تو میک اپ کرنا چھوڑ دو، شوہر کو سادگی پسند ہے؟
کیا آپ کی ویلیو کا پیمانہ واقعی آپ کی ذہانت، محنت، یا خواب ہیں؟ یا پھر یہ سب ایک ایسے سکور بورڈ سے جڑا ہے جس کے قواعد مرد لکھتے ہیں؟
یہ کھیل ہی کھیل میں کھیلنا بند کریں
ہماری سانسوں، خواہشوں، اور صلاحیتوں کو “ہائی ویلیو” کا لیبل لگانے کا یہ سلسلہ دراصل ایک پرانا قصہ ہے جہاں عورت کو ایک پراجیکٹ سمجھا جاتا ہے جسے مردوں کے معیارات کے مطابق فنِش کیا جانا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت کی کامیابی کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ مرد کے خوابوں کی تعبیر بن جائے؟
شادی ہی سب کچھ نہیں، لیکن…
پاکستانی لڑکی کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان اس کا میرج سٹیٹس ہوتا ہے۔ چاہے وہ آکسفورڈ سے ڈگری لے آئے، لیکن اگر رشتہ نہیں ملا تو سماج کی نظر میں اس کی ساری کامیابیاں ان کمپلیٹ ہیں۔ مثال؟ وہ خاتون جو 30 کی ہوتی ہی ایکسپائرڈ پروڈکٹ کا لیبل پا لیتی ہے۔
بیوٹی کو بھی ایک فیکلٹی سمجھا جاتا ہے
گورا رنگ، لمبے بال، صبح سے شام تک میک اپ، یہ وہ کرایہ ہے جو عورت کو روز مردوں کی عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ وہی ہوتا ہے جو آپ کی کلاس فیلو زینب کے ساتھ ہوا: اس کا رنگ کالا ہے، اس لیے رشتے نہیں آ رہے۔
خاموش رہو، تمہاری آواز بہت اونچی ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں عورت کی ہائی ویلیو کا ایک بڑا حصہ اس کی خاموشی ہے؟ شوہر کی ناراضگی برداشت کرنا، سسرال کے ظلم پر چپ رہنا، اور اپنی مرضی کو دفن کر دینا، یہ سب گھر کی ران بننے کے لیے ضروری سکلز ہیں۔
وہ سچ جو آپ کو آئینے میں دکھا دے گا
کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ اچھی بیٹی، بہترین بیوی، اور مثالی ماں کے لیے جو معیارات بتائے جاتے ہیں، وہ کبھی بھی عورت کی اپنی خوشی یا آزادی کو مرکز میں نہیں رکھتے؟
کیا آپ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی وہ دن ہے جب آپ کے سر پر شوہر کا سایہ پڑا، یا وہ دن جب آپ نے اپنے خوابوں کو چھوا؟
کیا ہم ہائی ویلیو کی تعریف بدل سکتے ہیں؟
سوچیں اس لڑکی کے بارے میں جو چادروں میں لپٹی ہوئی سڑکوں پر نکلتی ہے اور ہر روز مردوں کے طنز کے باوجود اپنے کاروبار کو چلاتی ہے۔ یا اس ماں کے بارے میں جو اپنے بچوں کو پالتی ہے اور ساتھ ہی یونیورسٹی میں پڑھاتی ہے۔ کیا یہ ہائی ویلیو نہیں؟
ہاں! ہماری ویلیو وہ ہے جو ہم خود طے کریں، نہ کہ وہ جو ہمیں مردوں کے رولر کواسٹر پر بٹھا کر بتائی جائے۔
آپ کا وجود کسی چیک لسٹ سے بڑا ہے
اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ تمہاری عمر ہو رہی ہے، اب شادی کر لو، یا تمہارا کیرئیر تمہیں گھر سے دور لے جا رہا ہے، تو یاد رکھیں: آپ کی زندگی کا سبق کسی کی ہدایت نامہ نہیں، آپ خود ایک مکمل کتاب ہیں۔
اور ہاں، اگر کبھی دل چاہے تو میک اپ اتار کر، بال کٹوا کر، یا شادی کے بغیر بھی آپ ہائی ویلیو ہی رہیں گی، کیونکہ آپ کی قیمت کا تعین آپ کے اندر کی خودشناسی کرتی ہے، نہ کہ کوئی مرد۔