
کبھی سوچا ہے کہ آپ کی زندگی میں محبت کا لفظ کب سے ڈیل بن گیا؟ جب آپ کسی سے ملتے ہیں تو پہلا سوال اس کی ذات، برادری، بینک بیلنس، یا گاڑی کے ماڈل تک پہنچ جاتا ہے؟
کیا آپ نے کبھی اپنے دل سے پوچھا کہ جذبات کی بجائے ہماری نظر میں تعلقات کا پیمانہ صرف کامیاب ٹرانزیکشن کیوں ہوگیا ہے؟
کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں رومیٰ اور شہزاد کی محبت کی داستانیں گنگنائی جاتی تھیں، یا اب ہم نے انہیں شادی پیکیجز میں تبدیل کردیا ہے؟
کیا آپ نے محسوس کیا کہ جب آپ کسی سے بات کرتے ہیں تو اس کی آنکھوں کی چمک کی بجائے اس کے موبائل کے برانڈ پر نظر ٹھہر جاتی ہے؟
کیا ہم نے اپنے دل کو بھی مارکیٹ کی مصنوعات کی فہرست میں شامل کردیا ہے؟
ہماری سانسوں میں اب کامیاب ڈیل کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ تعلقات کو ٹرانزیکشن سمجھنے کا یہ جنون صرف شادیوں تک محدود نہیں، بلکہ ہماری دوستیوں، رومانوی رابطوں، یہاں تک کہ خاندانی رشتوں تک کو ایک کمرشل معاہدے کی شکل دے چکا ہے۔ جہاں پہلے دل کی دھڑکنیں بولتی تھیں، اب کیلکولیٹر کی کلک کی آوازیں گونجتی ہیں۔
تمہارے والد کا ریٹائرمنٹ فنڈ کتنا ہے؟
شادی سے پہلے لڑکے والوں کا یہ سوال سن کر لگتا ہے جیسے وہ کوئی پراپرٹی ڈیل کررہے ہوں۔ لڑکی کی تعلیم، سکالرشپس، یا خوابوں کی بجائے اس کے والد کے بینک سٹیٹمنٹ پر بات ہوتی ہے۔ کیا یہی وہ روحانی رشتہ ہے جس کی بات ہم کرتے ہیں؟
میں نے اسے صرف ویسا ہی گفٹ دیا جتنا اس نے مجھے دیا تھا
محبت کا تبادلہ تحفوں کے ریاضیاتی توازن میں گم ہوچکا ہے۔ اگر آپ نے کسی کو ایک بار کافی نہیں بلائی تو وہ آپ کو دو بار نہیں بلائے گا۔ یہ کیسا رشتہ ہے جہاں میرا تمہارا کا حساب کتاب اتنا واضح ہو کہ ہر چیز ایک ایکاونٹنٹ کی ڈائری میں درج ہو؟
وہ مجھے لندن لے جائے گا، اس لیے میں نے ہاں کردی
کتنے فیصد شادیاں ویزے، گریڈ، یا پاسپورٹ کے لیے ہوتی ہیں؟ ایک لڑکی نے مجھے بتایا: میرا دل تو کسی اور کے لیے دھڑکتا تھا، مگر ماں نے کہا: بیٹا، محبت پیٹ نہیں بھرتی۔ کیا محبت اور روٹی کو الگ الگ پلیٹوں میں رکھنا ضروری ہے؟
تمہاری ڈگری کا سٹیکر میرے کارڈ پر لگے گا
ہمارے ہاں لڑکی کی پی ایچ ڈی صرف اس لیے اہم ہے کہ سسرال والے کہیں: ہماری بہو کا CV دیکھو!۔ گویا انسان کی تعلیم اس کی ذات کا حصہ نہیں، بلکہ فیملی کے پورٹ فولیو کا اضافہ ہے۔
ہم نے تو بس ایک دوسرے کو ٹائم دیا تھا
نوجوان جو کہتے ہیں کہ ہم نے صرف ڈیٹنگ کی تھی، وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ ان ڈیٹس پر کتنا خرچ ہوا؟ ہر تحفہ، ہر ڈنر، ہر مووی ٹکٹ ایک چپکے سے لین دین کا حصہ بن جاتا ہے۔
کیوں یہ سب ہورہا ہے؟
ہم نے اپنی نفسیاتی بھوک مٹانے کے لیے مادیات کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ جب معاشرے میں عدم تحفظ بڑھتا ہے تو انسان ہر رشتے کو ایک انشورنس پالیسی کی طرح دیکھنے لگتا ہے۔ مگر یاد رکھیں: ٹرانزیکشن میں دل نہیں، صرف ہندسے بولتے ہیں جس رشتے کی بنیاد کیلکولیٹر پر رکھی جائے، وہ کبھی گھر نہیں بنتا۔