Skip to content Skip to footer

پوشیدہ تعلقات: سیکرٹ سویٹ ہارٹس کا دباؤ



کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کی سانسوں میں بھی کوئی راز چھپا ہے؟ وہ راز جو کبھی کلاس روم کی کھڑکی سے چُرا کر دیکھے گئے ایک نظر کی صورت تھا، تو کبھی وٹس ایپ پر لکھے گئے وہ میسجز جو ہسٹری ڈیلیٹ ہونے کے باوجود دل پر نقش ہو گئے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آپ ماں باپ کے سامنے پڑھائی کر رہے ہیں کا ڈراما کرتے ہیں، تو آپ کا فون کس قدر بے چین ہوتا ہے؟
اور کیا آپ نے سوچا ہے کہ یہ چھپنے بھاگنے کی دوڑ آخر کس منزل پر جا کر رُکے گی؟
کیا یہ پیار ہے یا صرف سماج کے ڈراؤنے سائے کا شکار؟ 

دل اور سماج کی جنگ

پاکستانی معاشرے میں پوشیدہ تعلقات اکثر ایک ایسی جنگ بن جاتے ہیں جہاں دل اور دماغ کے درمیان نہیں، بلکہ دل اور پورے سماج کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوتی ہے۔ یہاں ہر چھوٹی سی مسکراہٹ، ہر ویڈیو کال، ہر ملاقات ایک خفیہ آپریشن کی طرح ہوتی ہے، جہاں ایک غلط قدم آپ کی دنیا کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ 

موبائل: آپ کا سب سے بڑا دوست یا دشمن؟

سوچیں، جب آپ نے اپنے پیار کا نام ریاضی کا ٹیچر بنا کر سیو کیا ہو، یا کیلکولیٹر ایپ کے پیچھے چھپے ہوئے میسجز کو روزانہ چیک کرتے ہوں۔ کیا یہ نہیں لگتا کہ آپ کا فون کبھی کبھی آپ کو خود سے بھی زیادہ جانتا ہے؟ 

خاندانی دعوتوں کا ڈر: ایک نئی تعبیر

کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ خاندانی تقریبات میں آپ کی آنکھیں صرف اُس ایک شخص کو ڈھونڈتی ہیں؟ اور جب وہ مل جاتا ہے، تو آپ کا دل ایسے دھڑکتا ہے جیسے امتحان کے دوران کاپی چُرا لی گئی ہو! 

گلی کے موڑ پر ملاقات: ایک غیر تحریری ڈراما

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ پورا پاکستان ہی چوری چھپے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ گلی کے موڑ پر پانچ منٹ کی ملاقات کے لیے آپ نے کتنی کہانیاں گھڑی ہوں گی؟ امی، میں تو دوست کے گھر کتاب لینے جا رہا ہوں!  اور پھر وہاں سے واپسی پر کتاب کے ساتھ ساتھ دل بھی کچھ اور ہی لے آتے ہیں۔ 

کیا یہ سب صرف گناہ ہے یا جذبات کی بھوک؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں محبت کو اکثر شرم کا لبادہ اوڑھنا پڑتا ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ پوشیدگی دراصل ہمارے اپنے اندر کے خالی پن کو اور گہرا کر دیتی ہے؟ جیسے کسی نے کہا تھا: جو راز دل میں دب جاتے ہیں، وہ کبھی مرتے نہیں… بس سانسیں بن کر اُگتے رہتے ہیں۔

کیا اس سب کا کوئی حل ہے؟

شاید نہیں۔ یا شاید ہاں۔ مگر جب تک ہم اپنے جذبات کو گناہ کی بجائے انسانی ضرورت سمجھنے لگیں، تب تک ہر سانس ایک چھپا ہوا راز ہی بنی رہے گی۔ کیا آپ تیار ہیں اس راز کو اپنے ہاتھوں سے توڑنے کے لیے، یا پھر یہی دباؤ آپ کی جوانی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا؟ 
سوچئیے گا ضرور… کیونکہ یہ کہانی صرف آپ کی ہے۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.