Skip to content Skip to footer

میٹیریل ازم کا عروج: کیا پیسہ محبت کو شکست دے رہا ہے؟


کبھی سوچا ہے کہ آپ کے رشتے دار آپ کی نئی گاڑی دیکھ کر مسکرا رہے ہیں یا آپ کے دل کی دھڑکن سن رہے ہیں؟
کیا آج کل تمہاری تنخواہ کتنی ہے؟ والا سوال، تم کیسے ہو؟ سے زیادہ اہم ہو گیا ہے؟
کیا وہ شادیاں جو دل کی بات سے شروع ہوتی تھیں، اب دولت کی لسٹ پر ختم ہو رہی ہیں؟
کیا ہم نے پیسے کو اپنا نئے خدا بنا لیا ہے جس کے آگے ہم محبت، رشتے، یہاں تک کہ اپنی خوشیوں کو بھی قربان کرنے کو تیار ہیں؟ 

پاکستانی معاشرہ ایک دوڑ میں شامل ہے، ایسی دوڑ جہاں پیسہ کمانا، دکھانا، اور بچانا زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ مگر اس دوڑ میں ہم نے کیا کھویا؟ کیا دولت کے انبار نے ہمارے رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے؟ چلیں، ذرا آنکھیں کھول کر دیکھتے ہیں۔ 

تمہارے پاس کیا ہے؟ سے پہلے تم کون ہو؟

آج کل ملاقاتوں کا پہلا سوال ہی معاشی سٹیٹس جانچنے والا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ خالہ جو بیٹے کے لیے دلہن ڈھونڈتے وقت خاندان کی عزت کی بجائے فیملی کی پراپرٹیز گنتی ہیں۔ یا وہ دوست جو آپ کے پرانے موبائل کو دیکھ کر آنکھیں چراتے ہیں۔ کیا ہماری نظر میں انسان کی قیمت اس کے بینک بیلنس سے لگائی جانے لگی ہے؟ 

سوشل میڈیا کا جادو: دکھاوے کی دوڑ

سوچیں، ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو کھانے سے پہلے فوٹو ضرور لیتے ہیں، مگر ذائقے سے لطف اندوز ہونے کی فرصت نہیں؟ یا وہ والدین جو بچے کے سالگرہ کے کیک کو اس لیے کھینچتے ہیں کہ دوسرے دیکھیں ہم کتنا خرچ کر سکتے ہیں۔ یہ دکھاوے کی فضا ہمیں کہاں لے جا رہی ہے؟ کیا ہم دکھائی دینے والی زندگی اور حقیقی زندگی کے فرق کو بھول گئے ہیں؟ 

محبت کی مارکیٹ ویلیو

ایک زمانہ تھا جب رشتے “دل کی بات” سے بنتے تھے۔ آج کل ڈاؤری کا ریٹ اور لڑکے کی نوکری سب سے پہلے وٹس ایپ پر شیئر ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جہیز کے بغیر شادی کرنے والے جوڑے معاشرے میں بہادر کیوں کہلاتے ہیں؟ اور وہ نوجوان جو غربت کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتے، کیا وہ واقعی نااہل ہیں؟ 

روٹی کمانا ضروری ہے، مگر کس قیمت پر؟

جی ہاں، پیسہ زندگی چلاتا ہے، مگر کیا یہ ہماری زندگی کو بھی چلا رہا ہے؟ مثال کے طور پر وہ باپ جو بچے کی سالانہ تقریب میں شرکت کے بجائے اوور ٹائم کرتا ہے تاکہ اس کا نیا فون خرید سکے۔ یا وہ بیوی جو شوہر کے ساتھ ڈنر پر بیٹھنے کی بجائے اس کی ٹیکسٹائل فیکٹری کے اخراجات گنتی ہے۔ کیا ہم نے خود کو مشین بنا لیا ہے جو صرف کماتی ہے، جیتی نہیں؟ 

سروے کہتا ہے کہ پاکستان میں 68% طلاق کی وجہ معاشی جھگڑے ہیں۔ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں رشتوں کو ربطِ باہمی کہتے تھے؟ 

ضرورت اور لالچ میں فرق کو پہچانیں۔ ایک اچھا گھر، اچھا کھانا، بچوں کی تعلیم، یہ سب ضروریات ہیں۔ مگر جب ہماری خواہشات کی فہرست میں “دوسروں کو نیچا دکھانا” شامل ہو جائے، تو سمجھ جائیں کہ میٹیریل ازم ہمارے دلوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یاد رکھیں، پیسہ کبھی بیمار ہونے پر آپ کو گھر کا کھانا نہیں لا سکتا، نہ ہی تنہائی میں آپ کے ہاتھ تھام سکتا ہے۔ محبت اور پیسے میں توازن ہی اصل کامیابی ہے۔

Leave a comment

0.0/5

Office
HUM NETWORK LIMITED PLOT 2A KHAYABAN-E- SUHRWARDY ROAD SECTOR G-6 1-1

thalnaturals3@gmail.com

+92 3252552222
Newsletter

Safdar Ali 2024©. All Rights Reserved.